فقط ستون ہیں
علی اکبر ناطق
سمت آسمان قامتیں
شکوہ جھاڑتی نگاہ روندتی
زمیں پہ بار ڈالتی
نحوستوںکی ہمرہی میں پائے جبر گاڑتی ہوئیں
فقط ستون ہیں
ہزار ہا نہیں ، وہ اَن گنت ستون
سنگ و سیسہ کے خمیر سے اُٹھے ہوئے
بغیر بام و در
نہ اِن کو بارِ سقف سے نیاز ہے
نہ ڈاٹ کی خمیدگی سے آشنا
گداز گردنیں اُٹھائے
ریشمی پروں کو پھڑ پھڑاتے
نیلگوں فلک کے راستوں کے رہگزار
نازنیں، صبا رفیق پنچھیوں کو ٹھوکریںستونوں کی بلند قامتیں
غریب و سردو خشک پر
سیاہ لاشیں برف کے نصیب
خاک پر لعین صورتیں
پناہ مانگتا ہوں مالکِ زمین و آسماں
پناہ میرے قلب کے رفیق
میری روح کے امین
سرد لاشوں کے حصار سے نکال
یاقوت کے ورق