← تحریروں کی فہرست
شاعری

لڑکے کے ارمان

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

چھاؤں کی اِک بستی والے لڑکے کے ارمان
پتوں کی پازیب بجے اور کوئل بولے تان
ٹاہلی کے دروازے والا ایک پرانا گھر
گھر کے پھیلے آنگن میں اُجلے دن کا مان
کچی اینٹ کی دیواریں ہوں کچی اینٹ کے کوٹھے
کوٹھے اوپر لہراتا ہو علَم کا ایک نشان
لوہے کی زنجیر ہو در کو بام پہ چوڑے کنگرے
کاگ کبوتر چڑیا کوئل کنگروں کی مہمان
آگ سے چولہا جلتا رہے اور رزق پکے سب پاک
مجلس ہو شبیر کی ہر دم وافر ہو سامان
حرص و ہوس کو راہ نہ دیویں، آئے حسد نہ پاس
اشک بھری سب آنکھوں والے اِس گھر کے انسان

مارچ کے پھول