معصوم
علی اکبر ناطق
شوخ سنہری رنگوں والی
چھوٹی سی اِک پیاری چڑیا
صبح سویرے، میرے آنگن
چوں چوں کرتی کالی چڑیا
گُل کی ٹہنی پر آبیٹھی
جس کا دل بھی نازک سا ہے
آہٹ پا کر ڈر جاتا ہے
ایسے شاخوں پر بیٹھی ہے
حصہ پھولوں کا لگتی ہے
کچھ وقت کلی سے کھیلے گی
کچھ دیر گُلوں کو چومے گی
بِن توڑے گُل کی شاخوں کو
بِن مَسلے پھولوں کلیوں کو
بھولی سی اِک کالی چڑیا
نازک سے دل والی چڑیا
آخر پھُر سے اُڑ جائے گی
بے یقین بستیوں میں