پُرانا قِصّہ
علی اکبر ناطق
سترہ سال پُرانا قصہ!
میرے گائوں کی اک ماچھن
بھٹی اُس کی اپنی ہی تھی
وہ دانے بھُونا کرتی تھی
سانج سویرے گھر سے نکلے
ایندھن لینے کھلیانوں سے
لیکن کھیت پرائے ہوتے
کھیتوں والے گالی دیتے
گالی کھاکر چُپ کر جاتی
رنڈی ماچھن سب سہہ جاتی
سورج ڈھلتے ہی اُس نے تو
اپنی آگ جلانا ہوتی
میرے گائوں کے مرکز میں
مسجد کے اِک دائیں پہلو
کھجّی کے دو پیڑوں نیچے
اُسکی بھٹی جب تپتی تھی
میں بھی جھولی بھر کر دانے
ساتھ چوّنی نقدی لے کر
پہلا گاہک بن کر اُس کا
بھاگا بھاگا واں آ جاتا
اور خوش ہوکر بھٹی نیچے
میں بھی ایندھن جھونکا کرتا
گائوں کے سب چھوٹے لڑکے
اپنے اپنے دانے لے کر
پل دو پل میں واں آ جاتے
بھٹی سے جب پھُلے اُڑ کر
باہر گرتے وہ کھا جاتے
ساتھ یہی وہ کہتے جاتے
امّاں پھجّاںمیرے دانے
بھون ابھی اور سب سے پہلے
شام ڈھلے جب فارغ ہوتی
امّاں پھجاں خوش ہوجاتی
آج کمائے آٹھ روپیّے
تین کلو گندم کا بھاڑا
کل پھر امّاں پھجّاں دیکھی
آنکھوں اندّھی، پیروں ننگی
سر پر میلی چادر اوڑھے
جینے سے بے زار ہوئی
بیچ چوراہے کھانس رہی تھی
مولا صدقے مانگ رہی تھی
بے یقین بستیوں میں