← تحریروں کی فہرست
شاعری

مہرولی کے باغ

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

کس نے دیکھے مہرولی کے باغ
چھتناروں کی چھتری والے ساون صورت باغ
گزرے ماہ و سال میں تنہا
اُجڑے شمسی تال کے بِروا
پڑھتے ہیں آکاش کا نوحہ مہرولی کے باغ
سو گئے جن کے ہمسائے میں چھ صدیوں کے راگ
دارین اُٹھو ، دو آنکھیں لے لو
ساتھ چمکتا سورج بھی ہے
اور فضل کی صورت بھی ہے
گزرے غم کا نوحہ پڑھتے جائیں
اور باغوں سے ہو آئیں
کچھ دیر قطب کی دلی کا جی رو آئیں
سبز خرابوں کے پیڑوں کو دھو آئیں
اُن ولیوں کو بہلائیں
جن کو جمنا کے پانی نے پالا تھا
جن پر سایا گہرے رنگوں والا تھا
جن کے ناز اُٹھاتے تھے

اُن شاہوں کے مالی
ایک زمانے بیچ رہے ہیں

جو وقتوں کے والی
اُن باغوں تک ہو آئیں

دارین چلو اُن شاخوں کو چھو آئیں
جن پر جھولا جھولنے والی سب پریاں
خاصانِ حرم کی ہوتی تھیں
لمسِ نگہ میں رہتی تھیں
اُن شاہوں کا پہلو بن کر سوتی تھیں
آج کھنڈر میں جن کی قبریں اک آیت کو ترستی ہیں
آنے والے سیّاحوں کے سینے لگ کر روتی ہیں
ان قبروں کے مر مر قبّے سیم ہوائیں کاٹ گئیں
اور کتبوں کی تحریروں کو صدیوں کی زبانیں چاٹ گئیں

دارین سنو،اب کون فضل کو سمجھائے
شمسی تال کے پہلو سے جو اُٹھ کر ساتھ نہ آئے
یہ باغ آموں کے،
بوڑھے باغ پرانے
جو مہرولی کے باسی ہیں
اوربہت سنیاسی ہیں
جن کے اُجڑے ہمسایوں پر کالی راتیں بیت گئیں
یہ عمروں کے کھانے والے
اُن صدیوں کے راوی ہیں
جن صدیوں کا نوحہ کہنے ہم آئے مہرولی میں

سُرمنڈل کا راجہ