← تحریروں کی فہرست
شاعری

پُرانے گنبد

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

پُرانے گنبدوں کی سمت چل
پرانے گنبدوں کے درمیاںسفید پتھروں سے گرد جھاڑ کر
ذرا سی دیر ملگجی سی روشنی میں بیٹھ
روشنی، جوگنبدوں کے روزنوں میںسُرمئی کبوتروں کے گھونسلوں سے
چھن چھنا کے پھیلتی ہے
اُن بُرے نصیب والے مدفنوں کے آس پاس
جن کے بیچ بے زبان، خستہ حال ہڈیاں ہیں
ہڈیوں میں عبرتیں ہیں
عبرتوں کو کیا خبر، وہ گنبدوں کے سائے میں
مہیب اور پُر وقار گنبدوں کے سائے میں
اُبھرنے والے سورجوں کے واسطے صدائیں ہیں
غموں کو بانٹتی ہوئی
خمار کوش چشم کھولتی ہوئی
قدیم موت پھینکتی ہوئی
قیامتوں کے صور پھونکتی صدائیں
اِن عبرتوں کو کیا خبر
کہ گنبدوں کی کجکلاہ چوٹیوں کو روندتی ہیں وحشتیں
یہ وحشتیں، جو پالتی ہیںروزوشب کا رزق دے کے سینوں میں حقارتیں
مگر وہ پھڑ پھڑاتے سُرمئی کبوتروں کے گھونسلے ہزاروں سال سے
پکارتے ہیںرہ روانِ سادہ لوح کو غرور سے
تھکے ہوئے مسافروں کو دُور دُور سے
کہ مانگ لیں وہ اب بھی ان شہوں کی بے زبان ہڈیوں سے روشنی
جنہیںسیاہ کارکاتبوں نے لکھ دیا تھا عادلوں کا دیوتا
بشارتیں سنانے والا نیک رُو مہابلی

سُرمنڈل کا راجہ