← تحریروں کی فہرست
شاعری

پاندھی

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

دھوپ جلی سڑکوں کا پاندھی، سرد شبوں کا آوارہ
بہکا بہکا پھرنے والا رات سمے کا بنجارہ
کچھ راہوں پرتیزچلا وہ، کچھ گلیوں میں دھیمے سے
نرم لوئوں کے پیر رکھے ہیں ٹوٹے کانچ کے سینے پہ
کس نے اسے بے چارہ جانا، کس نے کہا وہ تنہا ہے
تیرے شہر کا ہر چورہا اُس کا مونس و واقف ہے
جس فٹ پاتھ پہ دم بھر بیٹھے، وہ اُس کو سہلاتا ہے
جس دیوارسے ٹیک لگائے، اُس کو وہ بہلاتی ہے
اُس کو خبر ہے کن رستوں پر چلنے والے تھک جائیں گے
چھتنار درختوں کے سائے کن راہوں پر آئیں گے
وہ جانے ہے کون حویلی والے خواب سے ڈرتے ہیں
کس کی چوکھٹ پر نیندوں کے سانولے بادل آتے ہیں
جانے وہ کس دیس سے آیا، بھید کسی نے یہ نہ پایا
کیوں یہ مسافر ان سڑکوں پر کس کے لوبھ میں پھرتا ہے؟

یوں بِن پوچھے آہستہ سے پاس آ کر بڑھ جاتا ہے
جیسے مکاں کے بام کا سایہ چپکے سے ڈھل جاتا ہے

یاقوت کے ورق