پُکار
علی اکبر ناطق
یاعلیؑ
مَیں گداؤں کی بستی کا ساکن
مگر تُو بہت جانتا ہے گدا تو نہیں مَیں
گداؤں کے ماتھوں پہ مُہریں
سیاہی کی مُہریں
یہ مُہریں ہیں اُس جبہ سائی کا حاصل
جو بستی کے مکار و کُہنہ گدا وقت کے دیوتاؤں کی چوکھٹ پہ کرتے ہیں
دن کے اُجالے میں
شب کی ضیا میں
گداؤں کی شیریں زبانوں پہ گرہیں
نفاق و نفخ کی
گداؤں کے دل میں سیاہی کی گانٹھیں
ہوا و ہوس کی
گداؤں کے کاسوں میں بکری کی چھینکیں
گداؤں کے دہنوں میں سانپوں کی رالیں
یا علیؑ
یہ گدا اور اہلِ ریا
اِن کے شانے جُھکے ہیں ہواؤں کی تعظیم میں
ایک کے بعد اِک اآنے والے خداؤں کی تعظیم میں
اِن کی آنکھوں میں دنیائے دُوں کی نظر
یہ فریبوں کی وادی کے باسی
گدائی کے کشکول پکڑے ہوئے
یہ لحد کے مکانوں تلک کے مسافر
بہت بے خبر
یا علیؑ کیسے ممکن ہے
تیرے لیے اِن کے دل کی سیاہی میں کوئی سپیدی کا نقطہ بھی ہو
یا علیؑ کیسے ممکن ہے
تیری محبت میں ڈوبے ہوئے دل
کسی ابنِ ہندہ کے ٹکڑوں پہ آنکھیں جمائے کھڑ ے ہوں
یا علیؑ یہ تجھے جانتے ہیں
توکیا تیرے ہاتھوں میں تیشے سے واقف نہیں
تیرے پاؤں سے لپٹی ہوئی چکنی مٹی سے واقف نہیں
یا علیؑ بے شکن یہ قمیصوں کے مالک
یہ مُردہ ضمیروں کے وارث
مجھے اِن کی بستی سے سچے ہُنر کی زمینوں میں لے چل
سُرمنڈل کا راجہ