← تحریروں کی فہرست
شاعری

چراغ دِل

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

مِرے تیرہ شب میں چراغ دِل
تجھے کُہنہ نیند بلائے گی
تری لَو سفر میں رہی اگر
تو سحر کو چہرہ دکھائے گی
کئی شورو شر کے سوار ہیں
تجھے لیں گے شب کے حصار میں
مگر اپنے طاق پہ تُو جلے
تری کرنیں نیزہ غبار میں
مِرے تیرہ شب میں چراغ دل
نہ ڈرے ہوؤں کو صدائیں دے
کہ یہ لوگ لحدِ فنا میں ہیں
نہ بجھے ہوؤں کو ہوائیں دے
کہ اُڑے گی راکھ فضاؤں میں
وہ یقیں جو تجھ میں مقیم ہے
وہی دست و پا کا حلیف کر
یہی زِرہ تیرے وجود کی
جو غنیمِ جاں سے بچائے گی
جو کھڑے ہیں لشکری راہ میں
اُنھیں راستے سے ہٹائے گی
جو کلام صدق و صفا کا ہے
وہ مناقشوں سے بچا کے رکھ
جو پھریرا تیری ہوا کا ہے
وہ شکستگی میں اُٹھا کے رکھ
کہ بہانہ جوؤں کی بستیوں میں حقیر لفظوں کی آیتیں
حسد آتشوں میں جلی ہوئی ہیں صبیح دل کی مصوریں
مِرے تیرہ شب میں چراغ دل
ترے حصے آئیں وہ بستیاں
جہاں منبروں پہ ہیں اَژدَہے
جہاں تختِ شاہی پہ گِدھ ہیں
تُو نہ منبروں سے قریب ہو
تُو نہ قصرِ شاہی میں راہ کر
ترے شش جہت میں غلام ہیں
تُو غلاموں سے نہ کلام کر
ترے دائرے میں ہیں میتیں
تُو نہ میتوں میں قیام کر
مِرے تیرہ شب میں چراغ دل
ترا قافلہ سرِ نینوا
ترے حُر بسے سرِ کربلا
ترا پاسبان نجف میں ہے
ترا نُور کوکبِ سامرا
مِرے تیرہ شب میں چراغ دل

مارچ کے پھول