چرواہے کا جواب
علی اکبر ناطق
آگ برابر پھینک رہاتھا سورج دھرتی والوں پر
تپتی زمیں پر لُوکے بگولے خاک اڑاتے پھرتے تھے
نہر کنارے اُجڑے اُجڑے پیڑ کھڑے تھے کیکر کے
جن پر دھوپ ہنساکرتی ہے ویسے اُن کے سائے تھے
اِک چرواہا بھیڑیں لے کر جن کے نیچے بیٹھا تھا
سر پر میلا صافا تھا اور کُلھاڑی تھی ہاتھوں میں
چلتے چلتے چرواہے سے میں نے اِتنا پوچھ لیّا
اے بھیڑوں کے رکھوالے کیا لوگ یہاں کے دانا ہیں؟
کیا یہ سچ ہے، یاں کا حاکم نیک بہت اور عادل ہے؟
سر کو جھکاکر دھندلی آنکھوں والا دھیمے سے بولا
بادل کم کم آتے ہیں اور بارش کب سے روٹھی ہے
نہریں بند پڑی ہیں جب سے۔ ساری دھرتی سوکھی ہے
کُچھ سالوں سے کیکرپربھی پھلیاں کم ہی لگتی ہیں
میری بھیڑیں پیاسی بھی ہیں میری بھیڑیں بھوکی ہیں
بے یقین بستیوں میں