← تحریروں کی فہرست
شاعری

ڈگڈی والے

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

ڈگڈگی والے تری آنکھ میں کنکر کنکر
اِک اذیّت میں مسلسل تجھے رکھتی ہے چُبھن
ہوگیا جس کے سبب تیرا جہاں گرد و غبار
کھو گیا درد کی راہوں میں کہیں تیرا قرار
دائرہ وار ترے چار طرف بِین تری
رقص کرتی ہے کسی شوخ پری کی صورت
جس کی رفتار میں غربت کی نحوست شامل
ایسی منحوس کہ کوفے کی ہو قطام کوئی
ڈُگڈُگی تیری، ترا سانپ، جمورا تیرا
ایک اِک کرکے تری حُکمِ سرا سے باہر
تُو زمیں بوس ہوا ناک نے مٹّی چاٹی
تیرا بندر تری گردن پہ اکڑ کر بیٹھا
جس کے ناخن نے بگاڑے ترے چہرے کے نقوش
جسم بے جان ہوا دل پہ خراشیں آئیں
ہو گئی صورتِ حالات مخالف تیرے
ڈگڈگی والے تُو اب سوچ رہا ہے شاید
اتنا آسان نہیں روز تماشا کرنا

بے یقین بستیوں میں