کانچ کا شہر
علی اکبر ناطق
ہوس کے ملک میں کہیں
سرابِ چشم کے قریں
سنو، کہ ایک شہر تھا
وہ شہر سب تھا کانچ کا
تمام چوک، شہ نشین
شاہراہیں، شہ درے
مقام و راہ، منزلیں
نقیب و اسپ کانچ کے
حویلیاں، فصیل و در
مکان و بام کانچ کے
سرائیں، ہوٹلیں، حمام
گُردوارے، خانقہ
مقابرِ فقیر و شاہ
کاخ و گنبد و کلس
منار، مسجدوں کے در
تھے کانچ کے کلیسا گھر
قریبِ شہر کوہ تھا
بلندیوں کا ہم نفس
ہزار خوشنما مگر
وہ کوہ سب تھا کانچ کا
مضافِ شہرباغ تھے
ہزار رنگ تتلیاں
گُل و گلاب خوشبوئیں
درخت، سرو، پھول، پھل
شجر حجر کے شاخچے
تھے برگ و بار کانچ کے
تمام فصلیں کانچ کی
شراب و آب کانچ کے
قریب و دُور کے نگر
درونِ شہر خشک و تر
مکین ہائے بے خبر
ہوائے شہر کانچ کی
وہاں کے پنچھی کانچ کے
تھرکتے آب نہر کے
روان بیچ شہر کے
موجِ تُند کے حباب
تیرتے ہوئے شباب
تازہ رُو کنارِ سبز
سبزہ گاہیں کانچ کی
سفید صبح کانچ کی
سیاہ شام کانچ کی
تمام دن کی روشنی
تمام شب کی تیرگی
فسانہ ہائے ماہ و سال
کانچ کی خزاں بہار
سینکڑوں محلے گنج
کٹڑے، آستاں بلند
سقف آنکڑے، ستوں
ہزاروں ڈاٹ سر رکوع
کانچ کے تمام گھر
گھروں میں لوگ کانچ کے
دل و دماغ سینہ، سر
سماعتیں، بصارتیں
کلامِ شیریں و شکر
خیالِ شعر و حرف و لفظ
رنگ و صوت و موقلم
مصوریٔ کینوس
سرودو ساز و نغمہ، سُر
رُخانِ سبزہ، روئے زن
تھے کانچ کے ہی گل بدن
سو، کانچ کے دیار میں
نہ گل کا سایہ تھا کہیں
نہ سایۂ مکان تھا
نہ بر گدوں کی چھائوں تھی
نہ چھت کا سائبان تھا
نہ ابر میں طراوتیں
نہ شہد میں حلاوتیں
نہ شبنموں میں ٹھنڈکیں
نہ بادلوں میں بجلیاں
چہار سو تھے شہر میں
چمکتے سورجوں کے دَل
بھڑکتی دُھوپ کے غبار
ہر طرف بلند تھے
سڑک کے بیچ دُھوپ تھی
گلی کے درمیان دُھوپ
سرا و خیمہ گاہ میں
مکان و قصرِ شاہ میں
گھروں کے آنگنوں میں دُھوپ
ڈیوڑھیوں میں دھوپ تھی
مقام و منزل و سفر
سراب و حوض و راہ ور
مضافِ شہر کے مکیں
تمام دھوپ کے نگیں
شبوں کی مجلسوں میں دھوپ
دن کی خلوتوں میں دھوپ
ذہن و چشمِ شوق میں
گلوئے خوش نوا میں دھوپ
مرمریں بدن میں دھوپ
حد تو یہ ہے دوستو
دِلوں کے بیچ دھوپ تھی
یہی مقام تھا جہاں
حیات بے اماں ہوئی
جو سود تھی زیاں ہوئی
اُڑا تمام رنگِ سبز
رفتہ رفتہ بات زرد
زرد ہو گیا سلام
شہر کا حسیں نظام
خشک ہو گیا تمام
پھر ایک روز یوں ہوا
کہ دھوپ کے شرار سے
حرارۂ نگار سے
تڑخ گیا وہ شہر سب
تمام کانچ ریزہ ریزہ
ایک پل میں ہو گیا
دُھویں کی رَو میں کھو گیا
پھر اُس دیار کا نشاں
کسی کو بھی نہ مل سکا
ہزاروں سال ہو گئے
کہ شہر اک تھا کانچ کا
مگر ہزاروں سال بعد
اُس خرابہ میں کہیں
تھا دفن ایک خوش نوا
وہ شاعرِ شفق ادا
اُسی کے دل کی خاک سے
پھر آج پھوٹی کونپلیں
وہ کونپلیں ہیں نور کی
حیاتِ دل کے بُور کی
ہزاروں سال بعد پھر
سُرمنڈل کا راجہ