← تحریروں کی فہرست
شاعری

کنول ہیںآب میں خوش، گُل صبا میں شاد رہے

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

کنول ہیںآب میں خوش، گُل صبا میں شاد رہے
ترے حزیں تری آب و ہوا میں شاد رہے

پلٹ کے دیس کے باغوں میں ہم نہ جائیں گے
شفق مزاج ہیں، صحرا سرا میں شاد ر ہے

چراغ بانٹنے والوں پہ حیرتیں نہ کرو
یہ آفتاب ہیںشب کی دعا میں شاد رہے

گُلوں کی کھیتیاں کاٹیں ترے شہیدوں نے
صفائے خوں کے عزا دار عزا میں شاد رہے

سبز بستیوں کے غزال