گھنٹیاں بجنے سے پہلے شام ہونے کے قریب
علی اکبر ناطق
گھنٹیاں بجنے سے پہلے شام ہونے کے قریب
چھوڑ جاتا میں ترا گائوں مگر میرے نصیب
دُھوپ پھیلی تو کہا دیوار نے جھک کر مجھے
مل گلے میرے مسافر میرے سائے کے حبیب
لوٹ آئے ہیں شفق سے لوگ بے نیلِ مرام
رنگ آنکھوں میں اُٹھا لائے مگر تیرے نجیب
میں وہ پردیسی نہیں جس کا نہ ہو پُرساں کوئی
سبز باغوں کے پرندے میرے وطنوں کے نقیب
سورجوںکو کھا گئے ہیںشب کے اجگر اور یاں
زہر ظُلمت کا لیے بیٹھے ہیں صبحوں کے طبیب
سبز بستیوں کے غزال