گلابوں والی
علی اکبر ناطق
رات گلابوں والی نے کچھ ہار گندھے
درد کے ریشوں میں پلکوں سے پھول پروئے
ہلکا ہلکا نور بہایا آنکھوں سے
گرد و غبار کے وطنوں کا اک بنجارہ
سبز خطوں کا امبر دیکھنے آیا تھا
نور کا امبر، جس کی دُودھیا پریاں ہیں
رات کے گھر سے ٹھنڈی شبنم پیتی ہیں
سبز خطوں کے دیس میں بھٹکا بنجارہ
کالی بھنوؤں کے ہتیاروں نے لوٹ لیا
ذات نہ پوچھی نین سلونے والوں نے
یاقوت کے ورق