یہ آگ پیتا ہوا زمانہ
علی اکبر ناطق
یہ آگ پیتا ہوا زمانہ
فریب دیتا ہے زندگی کو
کھلی فضاؤں میں سانس لینے پہ عیب رکھتا ہے
سبز شاخوں کے نرم ریشے جلا رہا ہے
یہ آگ پیتا ہوا زمانہ
دھواں بنانے کے ماہروں نے وہ سحر پھونکے ہیں آدمی پر
کہ مول لیتے ہیں آگ موجِ صبا کے بدلے
گھٹن کی غاریں ہوا کے بدلے
عجب حماقت زدہ یہ انساں
گلابی رنگوں کو کاٹتا ہے
گداز سینے میں چھید کرتا ہے
زہر دل میں اُتارتا ہے
یہ آگ پیتا ہوا زمانہ
اسے ہواؤں سے دشمنی ہے
حیات رنگوں کو دینے والی کھلی فضاؤں سے دشمنی ہے
غلیظ مادے کو شعلہ دے کر کشید کرتا ہے تیز بدبو
اسے کثافت کی جستجو ہے
جو نیل سُرخی میں گھول دیتی ہے
راکھ خلیوں میں پھینکتی ہے
یہ آگ پیتا ہوا زمانہ
یاقوت کے ورق