یہ اَدھ جلے، اُلٹ پلٹ چراغ میرے بام کے
علی اکبر ناطق
یہ اَدھ جلے، اُلٹ پلٹ چراغ میرے بام کے
ہوا سے رات بھر لڑے لوَوں کی ڈھال تھام کے
شبوں کے چاند کیا ہوئے، کہاں ہیں دِن کے آفتاب
تری گلی میں آ پڑے غلام صبح شام کے
شفق کی سُرخ آگ سے گلوں کی زردیاں اُڑیں
کہیں ہوا پہ رُک گئے ہیں ابر میرے نام کے
سڑک سڑک چلے ہوئوں سے راستا نہ پوچھیے
جو راہِ دار سے گئے وہی نقیب کام کے
ترے نگر میں خامشی کا اِس قدر ہے اہتمام
کٹی زبانیں گُل صفات، لب سِلے تمام کے
سراب کے سمندروں میں شہر ڈوبتے رہے
مگر تمھارے حوض میں کھِلے کنول دوام کے
سبز بستیوں کے غزال