← تحریروں کی فہرست
شاعری

اِک نظر دیکھ، کہ اُبھری ہے اذاں رنگوں کی

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

اِک نظر دیکھ، کہ اُبھری ہے اذاں رنگوں کی
تم کو لبیک بلاتی ہے زباں رنگوں کی

شامِ گُل رنگ میں جھڑ جھڑ کے گرے عارضی پھول
صبح دم رُخ پہ نمایاں ہے خزاں رنگوں کی

حوض میں پھول گرے ہیں کہ چراغوں کی لوَیں
کشتیاں نور کے پانی پہ رواں رنگوں کی

دُھول کے نام ہوا تیرے دیاروں کا سفر
دُھوپ کی مثل ہوئی شکل جواں رنگوں کی

مُو قلم خاک سرابوں کی اُڑاتا ہے وہاں
نقش کرنے کی ضرورت تھی جہاں رنگوں کی

دشتِ بے رنگ میں ہوتے کبھی ناطق کے رفیق
ایسی قسمت تھی مرے دوست کہاں رنگوں کی

تصویروں کا باغ