← تحریروں کی فہرست
شاعری

کعبہ کے مضافات نے مجنوں نہ کیا پاک

علی اکبر ناطق

اردو میں پڑھیے

کعبہ کے مضافات نے مجنوں نہ کیا پاک
یہ نجد کا باشندہ اُڑاتا ہی پھرا خاک

شاخوں سے گرے پھول پہَ آواز نہ آئی
ٹپکا نہ ذرا خون، ہوا لالہ اگر چاک

کچھ لے کے نہیں جاؤں گا دنیا مَیں ترا مال
اِس جیبِ کفن میں ہے وہی شیشہ وہی تاک

رُخصت ہوا سبزہ بھی مرا خط کی ہوس میں
گزرے ہیں مہ و سال پَہ آئی نہ تری ڈاک

گاؤں کی حویلی میں چِھنے سونا صفت لوگ
تنہا مَیں ترے شہر میں پھرتا ہوں گرہ چاک

دِل ایک ستارہ تھا، گرا عرشِ پلک سے
اب خاک پہ بیٹھے ہیں مرے دوست کے افلاک

تصویروں کا باغ